Friday, 23 October 2015

غازی علم دین شھید ؒ اور غازی ممتاز قادری کے مقدمات کے عدالتی فیصلے. ghazi ilim din sheed r.a and now ghazi mumtaz qadri.... comments by ashraf asmi advocate


غازی علم دین شھید ؒ اور غازی ممتاز قادری کے مقدمات کے عدالتی فیصلے

۔انگریز دور اور موجودہ پاکستانی عدالتوں کے فیصلے اسلامی اساس کے منافی ہیں۔ قانون کی بالادستی کے عظیم علمبردار نے حضرت قائد اعظمؒ جیسے قانون دان حضرت غازی علم دین شھیدؒ کے مقدمہ کی پیروی کی اور ایسا قاید محترم ؒ نے حضرت اقبالؒ کی خواہش پر کیا۔اُس وقت پہ حالات ایسے ہی تھے کہ شتم رسول کو گرفت میں نہیں لیا جاسکتا تھا۔ اب بھی حالات ایسے ہی ہیں کہ ممتاز قادری والے کیس میں مقتول نے ناموس رسالت قانون کو کالا قانون کہا اور توہین رسالت کی مرتکب ملزمہ کے ساتھ ملاقات کرکے اُس ے خود ہی جج بن کر بے گناہ قرار دئے دیا۔ اِس وقت بھی پاکستان کی عدالتوں میں860 مقدمات توہینِ رسالت کے حوالے سے زیرِ سماعت ہیں۔جن پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ غازی ممتاز قادری والے معاملے میں بھی ریاستی اداروں ، حکومت اور عدالتوں نے مقتول کے بیانات پر چپ سادھے رکھی جس کی وجہ سے ممتاز قادری کو غازی علم دین شھیدؒ کی سنت ادا کرنا پڑی۔جب ریاست کے اہم ادارئے ہی قانون پر عمل درآمد نہ کرواسکے اور معاملہ بھی ایسا کہ جس کے لیے مسلمان انتہائی احساس ہیں۔تو پھر سرفروشی کی رسم چلتی ہے۔ دنیاوی نتائج و عوقب سے بے نیازی اکتیار کی جاتی ہے۔ ممتاز قادری کے مقدمات کی پیروی سابق چیف جسٹس ہائی کورٹ خواجہ شریف نے کی اور جسٹس نذیر اختر اور جسٹس منیر مغل بھی اِس ھوالے سے پیش پیش رہے۔بخدا اگر ہمارا عدالتی نظام اپنا کردار ادا کر رہا ہوتا تو ممتاز قادری کا ردِ عمل ایسا نہ ہوتا۔ کمزوری تو ہمارئے ریاستی نظام میں ہے۔عاشقان رسول کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ آقا کریمﷺ کی شان میں گستاخی کو اشاروں کنایوں میں برداشت کرتے رہیں اور زندگی کی رمق بھی اُن میں رہے۔اِس لیے اِس معاملے کے حوالے سے مجلس شرعی جس میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء اکرام ہیں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔نبی پاکﷺ کی ناموس کے حساس معاملے کو اِس لنگڑئے نظامِ عدالت کے حوالے کرنا عاشقان رسولﷺ کے لیے ممکن ہی نہیں۔اِس لیے غازی ممتاز قادری کی جان بخشی کا سوال نہیں کیونکہ ممتاز قادری کو اگر پھانسی ہو جاتی ہے تو انگریز کے دور کے قانون اور موجودہ حالات میں پھر کیا فرق رہ جاتا ہے۔ممتاز قادری کو پھانسی سے بچانا درحقیقت یہ ثابت کرنا ہے کہ ناموس رسالت کے لیے جب حالات اِس نہج پر پہنچ جائیں تو پھر حضرت عمرؓ کی سُنت پر عمل کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ممتاز قادری کے لیے پھانسی تو ایک ایسا اعزاز ہے کہ جو اُسے ہمیشہ کے لیے علم دین شھیدخ کی صف میں لاکھڑا کرئے گی۔معاملہ تو یہ ہے کہ اِس حوالے سے ہم اُمتی ہونے کے ناطے کیا کردار ادا کر رہے ہیں شائد تاریخ پھر سے خود کو دھرانا چاہتی ہے کہ نبی ﷺکے عاشقوں کی شہادتوں والی فہرست میں ایک اوررسولﷺکے عاشق کا نام شام ہو جائے۔اِسی لیے عدالت عظمیٰٰ نے اپنے فیصلے میں ممتاز قادری کی سزائے موت کی سزا کو بحال رکھا۔ اور دہشت گردی کی دفعات کو بھی دوبارہ بحال کر دیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ممتاز قادری اگر نبی پاکﷺ کی محبت سے سرشار ہے تو پھر سزائے موت کے خلاف اُنھوں نے اپیل کیوں کی۔ یہ ہی الزام غازی علم دین شھید ؒ کے اوپر لگایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ غازی علم دینؒ کا عشق اُن کو پھر اپیل کرنے سے کیوں روک نہ سکا۔ در حقیقت بات یہ ہے کہ ممتاز قادری کے چاہنے والوں نے نبی پاکﷺ کی محبت میں سرشار عوام نے ممتاز قادری کواپیل کے لیے بمشکل آماد ہ کیا اِیسی صورتحال ہی غازی علم دین شھید ؒ کے ساتھ محبت کرنے والوں کی تھی۔کہ قائد اعظمؒ جیسا عظیم قانون دان اُن کی جانب سے پیش ہوا تھا۔ممتازی قادری کے معاملے میں ہمیں کچھ سوالات کا جواب چاہیے ہوگا۔ جب ممتاز قادری نے یہ عمل کیا کیاکہ اُس وقت تک ریاست نے اُس شخص کے خلاف کوئی کاروائی کی تھی جو کہ سرعام توہین رسالت کے قانون کا مذاق بنا رہا تھا۔اور اُس خاتون کو پاس بٹھا کر پریس کانفرنس کر رہا تھا کہ یہ کا لا قانون ہے اور جرم کی مُرتکب خاتون آسیہ بی بی بے گناہ ہے۔ کیا سلمان تاثیر عدالت لگائے بیٹھا تھا کہ وہ بطور جج اِس طرح کا فیصلہ سنا رہا تھا۔ اور پھر سلمان تاثیر نے یہاں تک کہا تھا کہ وہ زرداری سے ملاقات کر کے اِس خاتون کو ملنے والی سزا ختم کروادئے گا۔اب اگر ہم بطور مسلمان اپنے عقیدئے کو دیکھیں تو ہمار ا اِس بات پر راسخ ایمان ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ کائنات میں صرف ایک ہستی ایسی ہے کہ جس کی عزت و حرمت اور مقام کے حوالے سے خالقِ کائنات خود نبی پاکﷺ کی شان کے دُشمنوں کو وعید سناتا ہے۔ اور جس وقت بھی نبی پاکﷺ کی ذات پاک کو ایذا پہنچائی گئی رب پاک نے خود اِس حوالے سے اپنا فرمان جاری کیا۔نبی پاکﷺ کی عزت و حرمت کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور ایسا کرکے مومن مسلمان اپنے رب کی سُنت ادا کر تا ہے۔جو رب یہ کہتا ہے کہ ائے نبی ﷺ اگر میں تمھیں پیدا نہ کرتا تو کچھ بھی پیدا نہ کرتا حتیٰ کہ اپنے وجود کا اظہار نہ کرتا۔نبی پاکﷺ کی عزت و حُرمت کی حفاظت کے حوالے سے ایک مسلمہ قانون جس پر تمام مسلمان پر مکمل طور پر متفق ہیں اور وہ اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والوں کے لیے ایک ہی سزا ہے کہ اُن کا سر تن سے جُدا کردیا جائے۔جو رب اپنے پیارئے محبوبﷺ کی شان مبارک کے حوالے سے اِس طرح مخلوق سے مخاطب ہے کہ اپنی آوازیں تک بھی نبی ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو ، کہیں تمھارئے تمام اعمال ضائع نہ کر دئیے جائیں۔جو رب اپنے محبوبﷺ کو کہتا ہے کہ بے شک تمھارا دُشمن بے نام ونشان رہے گا۔جس طرح کی شخصیت نبی پاکﷺ کی ہے اُس لحاظ سے اُن ﷺکی عزت و تکریم کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اُس شخص کا سر تن سے جدا کردیا جس نے یہ کہا تھا کہ میں نے نبی پاکﷺ سے فیصلہ کروایا ہے جو کہ مجھے پسند نہیں ہے آپؓ میرا فیصلہ فرمادیں۔ عمرفاروقؓ نے ایسے شخص کی جان لے لی جو کہ نبیﷺ کے بطور جج کیے گئے فیصلے کو مان نہیں رہا تھا۔اگر ہم295Cتعزیزاتِ پاکستان کی شق کا جائزہ لیں تو یہ بات ظاہر ہے کہ نبیﷺ کی ناموس کے خلاف بولنے والوں کو سزائے موت کا حکم ہے۔پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے مقدمہ قتل میں موت کی سزا پانے والے مجرم ممتاز قادری نے اپنی سزا کے خلاف عدالت عظمٰی میں اپیل دائر کر رکھی ہے،۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ سماعت کے دوران بینچ میں شامل جج صاحبان نے پوچھا کہ کیا کسی فرد کو توہین مذہب کے مرتکب کسی شخص کو سزا دینے کا اختیار حاصل ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ اگر لوگ توہین مذہب کے مرتکب افراد کو خود ہی سزائیں دینا شروع کر دیں تو اس سے انتشار پھیل جائے گا۔سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جب افراد نے ذاتی عناد کی بنا پر دوسروں پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا ہو۔ انہوں نے ممتاز قادری کے وکلاء سے یہ بھی پوچھا کہ کیا مجرم نے سابق گورنر سلمان تاثیر کے خلاف حکومت سے رجوع کیا تھا یا نہیں۔پیر کو درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا کہ اس کیس میں مجرم کی طرف سے کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جس سے ثابت ہو کہ سلمان تاثیر توہین مذہب کے مرتکب ہوئے تھے۔عدالت کا کہنا تھا کہ اب تک جو شواہد پیش کیے گئے ہیں، اُن سے صرف یہ ہی ظاہر ہوتا ہے کہ سلمان تاثیر نے موجودہ قوانین میں نقائص کی نشاندہی کی تھی، جو توہین مذہب کے زمرے میں نہیں آتی۔یاد رہے کہ اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر نے اپنی اہلیہ اور صاحبزادی کے ہمراہ توہین مذہب کے ایک کیس میں موت کی سزا پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ صدر پاکستان سے ان کی سزا معاف کرنے کی درخواست کریں گے۔انہوں نے ملک میں توہین مذہب کے قوانین میں تبدیلی کا بھی مطالبہ کیا تھا جنہیں ان کے بقول ذاتی مقاصد کے لیے غلط انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ممتاز قادری سلمان تاثیر کے سرکاری محافظوں کی ٹیم میں شامل تھا۔ ممتاز قادری نے اُس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو جنوری 2011ء میں اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ کے قریب گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ممتاز قادری کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا اور اُس نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کرنے کی حمایت کی تھی اور اسی بنا پر اُس نے اُن کو قتل کیا۔اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے 2011ء میں ممتاز قادری کو دو بار سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ممتاز قادری نے اس سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر رواں سال مارچ میں عدالت عالیہ نے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت ممتاز قادری کو سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔تاہم فوجداری قانون کی دفعہ 302 کے تحت اُس کی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا۔ممتاز قادری نے اپنی سزا کے خلاف اب سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھا۔پاکستان میں تمام فقہ کے ماننے والے مسلمان اِس بات ہر متفق ہیں کہ سلمان تاثیر کاجو رد عمل تھا اگر تو ریاست اِس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتی تو پھر تو بات یہاں تک نہ پہنچتی۔جس عمل کے حوالے سے حضرت اقبالؒ نے غازی علم دین شھید کے لیے بھر پور تحریک چلائی۔اُس کام کو خلاف دین خلاف قانون کیسے کہا جاسکتا ہے۔ مجلس ملی شرعی جس میں تمام مسالک کے بلند پایہ علماء شامل ہیں نے متفقہ طور پر ممتاز قادری کی حمایت کی ہے۔جو عمل 1929 کو غازی علم دین کی سزا کے حوالے سے درست تھا اُس وقت تو انگریز متحدہ ہندوستان پر براجمان تھا اب وہی موقف غلط کیسے کہ ممتاز قادری کو سزائے موت۔ انگریز جج اور پاکستانی ججوں کے ا وال افعال میں اتنی یکسانیت خدا کہ پناہ جس معاشرئے میں انصاف ملنے سے پہلے مظلوم مرجاتا ہے اُس معاشرئے کے جج صاحبان کو غازی ممتاز کے معاملے میں قانون کی بالا دستی کا خیال کھائے جارہاہے اور اِن بدبختوں کو نبی پاکﷺ کی عزت و توقیر کی کوئی پروا نہیں۔جو عدالتیں ریمنڈ ڈیوس جیسے سفاک قتل کو معاف کر سکتی ہیں اُن کواقعی یہ حق ہے کہ وہ انگریز کی پیروری کرتے ہوئے غازی علم دین شھیدؒ کی طرح ممتاز قادری کو بھی پھانسی کی سزا دیں۔ نبی پاک ﷺ کی ناموس پر قربان ہونے والے عظیم مجاہد جناب غازی علم دین شھید کی یاد اس طرح زخموں پر مرہم رکھتی ہے جیسے صحرا میں نخلستان۔ تاریخ عالم اُن مبارک ساعتوں کو کیسے فراموش کر سکتی ہے جو مبارک لمحات غازی علم دین نے گستاخِ رسول ﷺ کو جہنم رسید کرنے کے بعد اور تختہ دار پر چڑھنے سے پہلے گزارے۔ محبت کے انداز اور تقاضے عقل و ادراک کے محتاج نہیں ہوتے ۔ عشق کبھی بھی کسی دنیاوی تقاضے کا پابند بھی نہیں ہوتا۔ عشق رسول ﷺ کی ایمان افروز روشنی مومن کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ محبت رسول ﷺ کی لذت سے مومن کی آشنائی ہر کس وناکس سے اُسے ماورا کرتی ہے۔غازی علم دین شھید کو کہنے کو تو پھانسی دے دی گی۔ لیکن وہ پھانسی حیات جاودانی کا ایسا مشروب غازی صاحبؒ کو پلا گئی کہ پھر اُسکے بعد غازی صاحب ایسی روشن راہوں کے مسافر بن گئے کہ جناب محمد رسول اللہﷺ کے پروانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے امید اور آگہی کا روشن مینار بن گئے۔ جس دور میں جناب غازی علم دین شھیدؒ کو یہ مقام میسر آیا اُس وقت انگریز کا راج اور ہندووں کی مکاری عروج پر تھی مسلمان اقلیت میں ہونے کی بناء پر پسے ہوئے تھے۔ ان حالات میں علم دینؒ کو بقول اقبالؒ دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب شے ہے یہ لذتِ آشنائی۔ لذت آشنائی پھر چونکہ چنانچہ کے چکروں میں نہیں آتی وہ تو اطیواللہ واطیوالرسول کی اسیر ہو جاتی ہے۔وہ لوگ جو اُس دور میں رہ رہے تھے اُن کے لیے واقعی یہ بہت بڑا کارنامہ تھا اور اُس دور کے دانشوروں علماء اساتذہ ہر شعبہ زندگی کے افراد نے جناب غازی علم دین شھید ؒ کی قسمت پر رشک کیا ۔میانوالی جیل میں غازی صاحبؒ کو پھانسی دے کر نبیﷺ کے عاشقوں کو ایک نئی جلو نے اپنے حصار میں لے لیا اور عشق ومستی کا قافلہ نہایت کھٹن اور مسائل کے ہوتے ہوئے بھی غازی صاحبؒ کی شہادت پر رب پاک کے حضور سر بسجود ہوا۔ عشق تو نام ہی آقا کریمﷺ کی ذات میں خود کو گم کرنے کا ہے اور یوں نبی پاکﷺ کی عزت وناموس کی خاطر خود کو امر کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ لاہور خوش قسمت ہے کہ داتا علیٰ ہجویری کی نگری میں ایک عظیم عاشق ِ رسولﷺجسے غازی علم دین شھید کہتے ہیں نبی پاک ﷺ کی شان پرقربان ہوا اور امر ہوگیاآج جب اس عظیم شخص کو اپنے پیارے نبی پاک ﷺ پر قربان ہوئے اسی سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن غازی علم دین شھید ؒ کا نام اِس طرح لیا جاتا ہے جس طرح کسی بھی زندہ شخص کا نام لینا چاہیے ہوتا ہے جبکہ وہ ہستی بھی عاشقِ رسولﷺ ہو۔ ایسا کیوں نہ ہو رب پاک واشگاف الفاظ میں اپنی کتاب قران پاک میں فرماتا ہے کہ جو اللہ کہ راہ میں مارا جاتا ہے وہ زندہ ہے تمھیں اِس باات کا شعور نہیں، حتیٰ کہ شھید کو اللہ پاک کے ہاں سے رزق بھی ملتا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ شھید چونکہ زندہ ہے اِس لیے اُس کو مردہ کہنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے تاریخ عالم نے بہت سے نیک بندوں کو اپنے رب پاک کی راہ میں جان دیتے دیکھا ہے حغرت عمار ابن یاسر کے والدین سے محمد مصطفےﷺ کے غلاموں کی شہادتوں کا شروع ہونے والا سفر جاری و ساری ہے اور غازی علم دین شھید اسلام کے وہ عظیم پیروکار ہیں جن پر اُمتِ مسلمہ کو فخر ہے۔ عشق انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتا عشق انسان کو انسانیت کے اعلیٰ وارفع مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔ حغرت بلالؓ حغرت اویس قرنیؓ کے راستے پر چلتے ہو ئے غازی علم دین شھید نے وہ مقام حاصل کیا کہ جس کے متعلق شاعرِ مشرق حکیم الامُت حضر ت علامہ اقبال ؒ پکار اُ ٹھے کہ ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا اور ہم دیکھتے رہ گے۔ یقیناً حضرت اقبال جیسی شخصیت کی جانب سے غازی علم دین شھید کو بہت زبردست خراجِ تحسین ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں جب اِس کیس کی اپیل کی سماعت ہوئی تو لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا اس کے مطابق، علم دین بنام ایمپرر اے آ ٰئی آر 1930 لاہور 157کریمنل اپیل نمبر 562 آف 129۔قاتل 19 یا20 سال کا ہے ۔ اور اپنے مذہب کے بانی کے خلا ف کہے جانے والے اور کیے جانے والے فعل پر ناراض ہے ۔ علم دین جو کہ ایک تر کھان ہے اور سریاں والا بازار لاہور شہر کا رہائشی ہے جس نے 6اپریل1929 کو راج پال کو قتل کیا اور اِسکو دفعہ 302 کے تحت سزائے موت دی گئی۔ علم دین کی طرف سے اپیل کی گی اور سیکشن 374 سی آر پی سی کے تحت عدالت کے سامنے ہے۔ مرنے ولا ایک ہندو تھا جو کہ کتب فروش تھا اور ہسپتال روڈ پر اُسکی دکان تھی۔ کچھ عرصہ پہلے اُس نے مسلما نو ں کے مذہب کے بانی کے خلاف ایک پمفلٹ چھاپ کر مسلمانوں کو دُکھ پہنچایا تھا۔ؒ راج پال کو دفعہ ایک سو تریپن ائے جو کہ پبلی کیشن کے متعلق ہے کہ مطابق جنوری 1927کو قصور وار ٹھرایا گیا تاہم مئی 1927 میں ہائی کورٹ نے اُس کی سزا کو معطل کردیا۔ چھ اپریل 1929 کو راج پال پر دن دو بجے قاتلانہ حملہ کیا گیا راج پال کو آٹھ زخم آئے زخموں کی نوعیت سے لگتا ہے کہ راج پال نے خود کو بچانے کی کوشش کی ، راج پال کے ہاتھ پر چار زخم لگے تھے۔ اُس کے سر کے بلکل اوپر ایک زخم لگا جس سے اُسکے سر کی ہڈی کریک ہوئی ۔ اُس کی چھاتی پر بھی ایک گہرا زخم آیا۔PW-8 جو کہ آتما رام ہے اُس سے اپیل کندہ علم دین نے چھ اپریل کی صبح ایک چاقو خریدا علم دین راج پال کی دکان پر دن دو بجے پہنچاراج پال برآمدہ سے باہر گدی پر بیٹھا خطوط لکھ رہا تھا کہ اس پر علم دین نے حملہ کر دیا اس واقعہ کے چشم دید گواہ ناتھ PW-2اور بھگت رام (pw-3)جو کہ راج پال کے ملازم تھے۔ان میں سے گواہ (pw-2)بر آمدے کے اندر بیٹھا تھا اور (pw-3)گواہ برآمدے کے باہر شیلف میں کتابوں کو ترتیب دے رہا تھا۔انھوں نے الاارم بجایا کتابیں علم دین پر پھینکیں۔کر دناتھ اور بھگت رام جن کے ساتھ باہر سے نانک چاندw-1) اور پارمانانند مل گئے اور انھوں علم دین کا پیچھا کیاودیا راتھن جوکہ علم دین کو اپنے دفترکے دروازے سے دیکھ رہا تھا نے دوسرے لوگوں کی مددسے علم دین شہید کو پکڑ لیا۔علم دین باربار وانچی آواز میں شور مچانے لگا کہ وہ نہ تو چور ہے نہ ہی ڈاکو بلکہ اس نے تو نبی پاک ﷺ کا بدلہ لیا ہے۔علم دین کو مقتول کی دوکان پر لے جایا گیا اور پولیس کو بلایا گیا اور پولیس نے علم دین کو پکڑ لیا اور تفتیش کے دوران کردناتھ نے جو بیان اس کے مطابق جب علم دین کو پکڑا گیا۔اُس نے نہ تو کوئی مزاحمت اور نہ ہی اُس نے اپنے کسی ساتھی کا نام بتایا علم دین کے بیان پر آتمارام کی دکان کو تلاش کیا گیااور 9 اپریل کو آتما رام نے علم دین کو شناخت پریڈ میں شناخت کرلیا یہ شناخت پریڈ مجسٹریٹ کی زیر نگرانی ہوئی اور علم دین کو اُسی شخص کے طور پر پہچان لیا جس کو اُس نے چاقو فروخت کیا تھا جوکہ راچبال کی دکان سے ملا اس میں کوئی شک نہیں کہ آتمارام نے اس طرح کے چاقو اور لوگوں کو بھی فروخت کیے ہوں گئے۔ اسی طرح کے دو چاقو اُس نے بطور ثبوت عدالت پیش کیے آتمارام نے بتایا کہ اُس نے یہ چاقو ایک میڈیکل سٹور سے نیلامی میں خریدے تھے مسٹر جناح نے پراسیکیوشن کی کہانی پر مختلف groundsپر attackکیا انھوں نے اسی بات پر زور دیا کردی ناتھ قابل اعتما د گواہ نہیں ہے کیونکہ1) (وہ مقتول کا ملازم تھاپس وہ اس لیے intrested تھا2) (اُس نے ایف آئی آر میں نہیں بتایاکہ (a) کہ بھگت رام اُس کے ساتھ تھا ) (b اور علم دین نے یہ کہا کہ انھوں پیغمبرا سلامﷺ کابدلہ لیا ۔کیونکہ بھگت رام بھی راج پال کا ملازم تھا اس لیے وہintrestedکی صف میں ہے بیانات کی صحت پر اعتراض لگائے گئے جوکہ پولیس کو دئیے گئے تھے جس کے سبب آتمارام کاپتہ چلا اور آتمارام کی وجہ سے علم دین کی شناخت ہوئی اور آتمارام نے چاقوکی فروخت کی بابت بیان دیامسٹر جناحؒ نے اُس کو جھوٹا قرار دیا ۔جج صاحب نے شہادتوں کو ڈسکس کرنے کے بعدیہ

قرار دیا کہ جرم ثابت ہو گیا ہے علم دین کی عمر کم ہے وہ19 یا20 سال کاہے اور اُس کا یہ ایکٹ اپنے مذہب کے بانی کی وجہ سے ہے جیساکہ عامر بنام امپیرر کیس میں تھا اس بناء پر کہ کیونکہ قاتل کی عُمرکم ہے اور وہ 19یا20سال کا ہے یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ اُسے قانون کے مطابق سزانہ دی جائے ۔ مسٹر جناحؒ کی یہ Reason کے قاتل کی عُمر تھوڑی ہے اور اُس کو کپیٹل سزانہ دی جائے ۔ اور اُسے جان بوجھ کر کسی کو قتل کرنے کی سزانہ دی جائے ۔ میں اپیل کو ڈ سمس کرتا ہوں اور سزائے موت کی توثیق کرتا ہوں ۔یہ فیصلہ ہے جو لاہور ہائی کورٹ نے لکھا اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا غازی علم دین شہید صاحب نے یہ بات کہی کہ اُنھوں نے راج پال کو قتل نہیں کیا۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا غازی صاحب نے راج پال کو کسی شے کے لالچ میں قتل کیا۔ اُنھوں نے تو یہاں تک کہہ د یا کہ جب لوگوں نے اُن کو راج پال کو جہنم رسید کرنے پر پکڑا تو انھوں نے کہا کہ نہ تو میں چور ہو اور نہ ہی ڈاکو میں نے تو یہ سب اپنے نبی پاک ﷺ کی عزت کی خاطر کیاہے ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر غازی صاحب مصلحت کا شکار ہو جاتے تو جرم سے انکار کردئے اور اپنی جان بخشی کروالیتے۔یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی بھی الہامی مذہب کے پیروکاروں کو کیا صرف آزادی رائے کے اظہار کے نام پر دکھ پہنچایا جاسکتا ہے۔ دین اسلام کے مطابق تمام انبیاء اکرام کی عزت و ناموس کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ لیکن نبی پاک ﷺ کے خلاف آئے روز مغربی ممالک کے نام نہاد آزادی رائے کے پرستاوروں کی جانب سے گستاخی کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کا امتحان لیا جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان میں 295C کا قانون اِس بات کی دلیل ہے کہ اگر کسی بھی شخص پر انبیاء اکرام کی گستاخی کا الزام لگتا ہے تو قانون کے مطابق کاروائی کی جائے اور انصاف کے تما م تر تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ نہ کہ عوام خود انصاف کریں انصاف کرنا عدالتوں کا کام ہے۔ آج تک توہین رسالت کے قانون کے تحت کسی بھی غیر مسلم کوپاکستان میں سزا نہیں دی گئی۔ آخری الہامی کتاب قران مجید نے صاحب قران جناب نبی پاک ﷺ کی عزت وحرمت کے متعلق واضع احکامات دےئے ہیں۔اقبالؒ کے مطابق مسلمان کے اندر روح محمدﷺ ہے اور جب روح محمد مومن کے اندر ہے تو پھر کوئی بھی مومن کسی بد بخت کی جانب سے نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں کیسے گستاخی برداشت کرسکتا ہے۔ اگر غازی علم دین شھید ؒ کے دور میں بھی توہین رسالت کا قانون ہوتا تو پھر کسی راج پال کو ایسا کرنے کی جُرات نہ ہوتی۔ جناب غازی علم دین شھید نے اپنی زندگی قربان کرکے اپنے آقاﷺ کی شفاعت حاصل کرلی۔ حضرت قائد اعظمؒ جیسی عظیم ہستی جناب غازی صاحبؒ کی وکالت کرنے کے لیے لاہور پہنچی۔ لیکن شھادت کا جام پینے کے لیے بیقرار غازی صاحبؒ اپنے آقا کریم ﷺ کے نام پر فدا ہوگے۔ اِس لیے جو نام نہاد لبرل فاشسٹ یہ شور مچاتے ہیں کہ 295C قانون کو ختم کیا جائے تو اِن کو یہ نظر نہیں آتا کہ اِسی قانون کی وجہ سے تو عدالت کو انصاف کرنے کا موقع ملتا ہے ورنہ ہر مسلمان غازی علم دین شھید ہی تو ہے۔بقول جناب مولانا رومیؒ ، ملتِ عشق از ہمہ ملت جُدا است ، عاشقاں را مذہب و ملتِ خدا ست، یعنی عشق والوں کا مسلک سب سے جُدا ہوتا ہے، عاشقوں کا مسلک اور مذہب صرف خُدا ہوتا ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ گزشتہ پچس سالوں سے قانونی ،سماجی عمرانی، نفسیاتی ، معاشی مو ضوعات پر لکھتے ہیں ، ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں۔ معاشیات اور قانون کے اُستاد ہیں۔ معروف سماجی انصاف کی تنظیم مصطفائی جسٹس فورم کے سربراہ ہیں اور برصضیرپاک و ہند کی عظیم درگاہ حضرت میاں محمداسما عیلؒ المعروف حضرت میاں وڈا صاحب ؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ 

No comments:

Post a Comment