پاس تھا جب تلک مسکراتا رہا وہ شخص
درد اپنا چھپائے، مجھ کو رلاتا رہا وہ شخص
آنکھیں اُسکی گہرئے سمندر کی طرح نمناک تھیں
دُکھ میرئے چُن کر خود میں بساتا رہا وہ شخص
اتنا عالیٰ ظرف کہ در و دیوار بھی روپڑئے
خود کو فراموش کیے مجھے گلے لگاتا رہا وہ شخص
میرئے خوابوں کو عجب زندگی بخشی اُس نے
پھولوں کی طرح مجھ کو مہکاتا رہا وہ شخص
جب بھی خوشیوں سے دامن تنگ ہوا میرا
عاصمی اپنے حصے کی بہاریں مجھ پہ لُٹاتا رہا وہ شخص
اشرف عاصمی
اشرف عاصمی کے قلم سے
چند برس پیشتر میں بزنس اینوایریمنیٹ کے ایم بی ائے کورس کی کلاس پڑھا رہا تھاتوسوال یہ تھا کہ جھوٹ اور سچ زندگی کے معاملات میں کتنا اہم ہے۔اور اچھے انسان کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہونی چاہیے۔ میرئے دل سے اِس سوال کا جواب جو اُبھرا میں نے کلاس کو بتایا کہ ڈےئر سٹوڈنٹ جو حق بات کہی جائے اور پھر ایساکرکے دیکھایا بھی جائے اُس پر قائم رہا جائے اُسے حُسینیتؓ کہا جاتا ہے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ یذیدیت ہے۔
چند برس پیشتر میں بزنس اینوایریمنیٹ کے ایم بی ائے کورس کی کلاس پڑھا رہا تھاتوسوال یہ تھا کہ جھوٹ اور سچ زندگی کے معاملات میں کتنا اہم ہے۔اور اچھے انسان کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہونی چاہیے۔ میرئے دل سے اِس سوال کا جواب جو اُبھرا میں نے کلاس کو بتایا کہ ڈےئر سٹوڈنٹ جو حق بات کہی جائے اور پھر ایساکرکے دیکھایا بھی جائے اُس پر قائم رہا جائے اُسے حُسینیتؓ کہا جاتا ہے اور جو ایسا نہیں کرتا وہ
یذیدیت ہے۔
امام عالی مقام حضرت امام حُسینؓ کی شان میں منقبت
حق بات پہ ڈٹ جانا ہے شیوہِ حسینیت
سچائی کانصاب پڑھانا ہے شیوہ حسینت
مصلحت اور منافقت کا فرق سمجھانا ہے شیوہِ حسینت
سرعام سر کٹوانا ہے شیوہِ حسینت
احساس کا درد جگانا ہے شیوہِ حُسینیت کا
خیر البشرﷺ کے دین کو بچانا ہے شیوہِ حُسینیت
مظلوم کو حُریت سکھانا ہے شیوہِ حسینیت
حق پرستی سے یزیدیت کو ڈرانا ہے شیوہِ حُسینیت
عاصمی مصطفے کریمﷺ کے جھنڈئے کو اُٹھانا ہے شیوہِ حسینیت
شریعت کی حقیقت بتانا ہے شیوہِ حسینیت
اشرف عاصمی




















No comments:
Post a Comment